Dil main Thkana

درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا
زندگی بھر کا تماشا ہو گیا

مبتلائے ھم بھی ہو گئے
ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا

بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے
غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا

ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی
ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا

تھے نیاز و ناز کیا کیا خواب میں
کھل گئیں آنکھیں تو پردہ ھو گیا

تیرے جلوؤں کا عالم کیا کہوں
اک عالم اور پیدا ہو گیا

اپنی رسوائی سے ھے بڑھ کر یہ غم
ساتھ میرے تو بھی رسوا ہو گیا

درد دل میں کروٹیں لینے لگا
کس کی آنکھ کا اشارا ہو گیا

ذکر مے آیا گلشن جو گلشن میں جلیل
پھول سا غر سرو مینا ہو گیا

~ از abbascom پر اکتوبر 6, 2012.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: