Hawa ko likhna jo Aa gaya hai

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ھے
اب اسکی مرضی کے وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے
سفر کی خواہش کو
وہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پر چلنے والوں کی قسمتوں میں
غبار لکھ دے
ہوا کی مرضی
کہ وصل موسم میں ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی راتوں کو
نا پائیدار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ھے
اب اس کی مرضی
کہ وہ ھمارے دیے بجھا کر
شبوں کو با اختیار لکھ دے
ہوا کو لکھنا سکھانے والو!!!
ھوا کو لکھنا جو آ گیا ھے

~ از abbascom پر ستمبر 28, 2011.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: