Ziker-e-Shab-e-Firaq Se Wahshat Use bhi Thi

ذکر شبّ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

سناتا تھا برے شوق سے وہ بھی پرانی کہانیاں
شائد  رفاقت  کی  ظرورت  اسے  بھی   تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نیئے چھروں کی دید کا
رستہ بدل کر چلنے کی عادت اسے بھی تھی

کل   رات   دیر   تک   رھا   وہ   ماھو   گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کے شہر سے گل مل گیا وہ شحص
ورنہ  تو  شہر  بھر  سے  عداوت  اسے  بھی  تھی

وہ مجھ سے بھر کے ظبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ  ہر  اک  سانس  قیامت  اسے  بھی  تھی

~ از abbascom پر اگست 7, 2009.

2 Responses to “Ziker-e-Shab-e-Firaq Se Wahshat Use bhi Thi”

  1. what kind of address do you want

  2. please tell me what i can do for you.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: