کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں

کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا
کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا
جب ھم ھی نہ مہکے پھر صاحب
تم باد صبا کہلاؤ تو کیا
اک آئنہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر شرماؤ تو کیا
تم آس بندھانے والے تھے
اب تم بھی ہمیں ٹکھراؤ تو کیا

دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤں تو کیا
میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا
جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا
اک وہم ھے یہ دنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا کچھ پاؤ تو کیا
ھے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا

~ از abbascom پر جون 7, 2009.

One Response to “کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

  1. very nice poetry

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: