کاش میں تیرے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا

کاش میں تیرے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمھوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ھاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ھونتوں کی حدت سے دہک سا جاتا
رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی

مرمریں   ھاتھ   کا   اک   تکیہ  بنایا  کرتی

میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری  زلفوں  کو  ترے  گال  کو  چوما  کرتا
جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ  کرتا
مجھ کو بےتاب سا رکھتا تیری چاھت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا

کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں ترے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا

~ از abbascom پر مئی 27, 2009.

One Response to “کاش میں تیرے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا”

  1. its very cheap poetry by some shah named person origionally it is by Majeed amjad

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: