وہ خون کر کے امیدوں کا مسکراتے ہیں

وہ خون کر کے امیدوں کا مسکراتے ہیں
یہ لوگ شہر کے کیوں مجھ کو آزماتے ہیں

ڈرا رہے ہیں یہ قبروں کے مجھ کو سائے
یہ زخم کیسے ہیں مجھ کو صدا رلاتے ہیں

میں جب ہنسوں میری پلکیں بھی بھیگ جاتیں ہیں
یہ میرے لب میری آہیں بہت چھپاتے ہیں

کبھی تھا سرخ گلابوں کا موسم میرے آنگن میں
یہ زرد پتے تیری یاد اب دلاتے ہیں

انا کے بت میں سسکتی ھے حسرتوں کی لاش
یہ تیرے وعدے تو پاگل مجھے بناتے ہیں

جلا کے راکھ کریں گے چمن کو اے خانم
جو لوگ آگ کو چنگاڑیاں دکھاتے ہیں

~ از abbascom پر مارچ 28, 2009.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: