Kuch Ashar

وہ ملا تو صدیوں بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نیں رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

_____________~!~____________

اب اسے روز نہ سوچوں تو بدن ٹوٹ جاتا ھے فراز
اک عمر گزری ھے اسکی یاد کا نشہ کرتے کرتے

_____________~!~____________

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ھے
یہ کون ھے جو میرے گھر کے پاس رہتا ھے

_____________~!~____________

وہ کم نصیب ، اس سے جو بچھڑے تھے اک بار
کہنا اسے کے لوگ وہ اب تک بسے نہیں
_____________~!~____________

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ھے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ھے

~ از abbascom پر فروری 27, 2009.

One Response to “Kuch Ashar”

  1. nice

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: