چلو چھوڑو۔۔۔

چلو چھوڑو۔۔۔!!!
محبت جھوٹ ھے۔۔۔
‘عہدوفا” اک شغل ھے بیکار لوگوں کا
“طلب” سوکھے ھوے پتوں کا بےرونق جزیروں کا
“خلش” دیمک زدہ اوراق پر
بوسیدہ سطروں کا جزیرہ ھے
چلو چھوڑو۔۔۔!!!
کہ اب تک میں اندیھروں کی
دھمک میں سانس کی ظربوں پہ
چاھت کی بنیاد رکھ کر سفر کرتی رہی ھوں
مجھے احساس ھی کب تھا
کہ تم بھی موسموں کے ساتھ
اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گے۔۔۔
چلو چھوڑو۔۔۔!!!
مرا ھونا نہ ھونا اک برابر ھے
تم اپنے خال و خد کو آئینوں میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو
‘‘مرے خوابوں کو مرنے دو‘‘
چلو چھوڑو ۔۔۔!
محبت جھوٹ ھے ۔۔۔

~ از abbascom پر فروری 25, 2009.

8 Responses to “چلو چھوڑو۔۔۔”

  1. محترم
    یہ نظم غلطیوں اور خود ساختہ اضافوں سے بھرپور ہے۔

  2. OK
    Buddy
    Will soon update you the correct version of the Poem…

  3. I like it

  4. Thanks

  5. آپ کی مطلوبہ نظم چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے ( محسن نقوی) میرے بلاگ پر لکھ دی ہے۔ پڑھ لیجیئے۔

  6. Aap address bhi likh detay to zaida accha hota … kion ke ise doosray log bhi parde saktay thay . ab mujhe search kerna ho ga aapka blog😦

  7. post address
    http://lafunga.wordpress.com/2009/04/13/%da%86%d9%84%d9%88-%da%86%da%be%d9%88%da%91%d9%88/
    blog address
    http://www.lafunga.wordpress.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: