Naraz Naqoosh by Noshi gilani

میرے محبوب
میری سمت نہ دیکھ
میری آنکھوں کو بھی نم رھنے دے
ترک خواھش کا بھرم رھنے دے
پھر پگھل جائے نہ سینے میں یہ دل
کتنی مدت میں بھلایا ھے مچلنا اسکو
کتنی مشکل سے سکھایا ھے کے جینے کے لیئے
یوں محبت سے دھڑکنے کا ھنر
رائیگانی کے سوا کچھ بھی نہں
اک تماشا ھیں وہ سارے منظر
جن کے چہروں پر ھوں تقدیر کے ناراض نقوش
اب تو تو خود سے مکرنے دے مجھکو
میرے محبوب نہں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہں
جسم کو راکھ نہ کر روح کو شعلہ نہ بنا
یوں میری سمت نہ دیکھ

~ از abbascom پر فروری 23, 2009.

One Response to “Naraz Naqoosh by Noshi gilani”

  1. Well done

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: