Us ko bhi Wasl-e-yaar ki chahat nahi rahi

اس کو بھی وصل یار کی چاھت نہیں رھی
ھم نے بھی انتظار کے دیپک بجھا دیئے

آیا کبھی خیال تو آنھیں چھلک پڑیں
آنسو کسی کی یاد میں کتنے بہا دیئے

ھوا کی دوڑ پر چل کر کبھی آتا تھا جو ملنے
اسی نے کہکشاں کی راہ میں پہرے بٹھا دیئے

کھنک اٹھتی تھی اسکی روح جن باتوں کی مستی سے
انہیں مصوم لفظوں سے کئی نقتے اٹھا دیئے

مھبت میں میرے دل کو فریب آرزو دے کر
الفت کے معنی آج کل فرقت بتا دیئے

بے تابی دل کہنے گیا تو جواب میں
حجر و فراق کے کئی قصے سنا دیئے

دل تو فگار تھا ھی نئی بات کیا ھے نیل
دو چار زخم اور جو اس نے لگا دیئے

~ از abbascom پر فروری 22, 2009.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: