Muhabbat Zinda Rehty hai

مسافر تو بچھڑتے ھیں ، رفاقت کب بدلتی ھے
مھبت زندہ رھتی ھے ، مھبت کب بدلتی ھے

تمھی کق چاھتے ھیں ھم، تمھی سے پیار کرتے ھیں
یھی برسوں سے عادت ھے، یے عادت کب بدلتی ھے

تمھیں جو یاد رکھا ھے، یھی اپنی عبادت ھے
عبادت کرنے والوں کی عبادت کب بدلتی ھے

کلی کا پھول بننا اور بکھر جانا مقدر ھے
یھی قانون فطرت ھے ، سو فطرت کب بدلتی ھے

جو دل پر نقش ھو جائے، نگاھوں میں سمٹ آئے
علامت ھے یے چاھت کی، تو چاھت کب بدلتی ھے

پرانے زخم کو احمد بھلا دینا ھی اچھا ھے
اگر چاھے نہ خود کوئی تو قسمت کب بدلتی ھے

~ از abbascom پر دسمبر 23, 2008.

3 Responses to “Muhabbat Zinda Rehty hai”

  1. hmm dats really nyc janab mujhay bohat achi lagi hy app ki ghazal

  2. ثمینہ راجہ کی خوب صورت نظمیں

    وہ ستارہ ساز آنکھیں

    وہ ستارہ ساز آنکھیں
    مجھے دور سے جو دیکھیں
    تو مرے بدن میں جاگے
    کسی روشنی کی خواہش
    کسی آرزو کا جادو
    کسی حسن کی تمنا
    کسی عشق کا تقاضا

    مرے بےقرار دل کو
    بڑی خامشی سے چھو لے
    کوئ نرم رو اداسی
    کوئ موج زندگی کی
    کوئ لہر سر خوشی کی
    کوئ خوش گوار جھونکا

    اسی آسماں کے نیچے
    اسی بے کراں خلا میں
    کہیں ایک سرزمیں ہے
    جو تہی رہی نمی سے
    رہی روشنی سے عاری
    رہی دور زندگی سے
    نہیں کوئ اس کا سورج
    نہ کوئ مدار اس کا

    اسی گمشدہ خلا سے
    کسی منزل خبر کو
    کسی نیند کے سفر میں
    کسی خواب مختصر میں
    کبھی یوں ہی بے ارادہ
    کبھی یوں ہی اک نظر میں
    جو کیا کوئ اشارہ
    وہ ستارہ ساز آنکھیں
    مجھے کر گئيں ستارہ

    آشوب

    کیا آہ بھرے کوئ
    جب آہ نہیں جاتی
    دل سے بھی ذرا گہری
    اور عرش سے کچھ اونچی

    کیا نظم لکھے کوئ
    جب خواب کی قیمت میں
    آدرش کی صورت میں
    کشکول گدائ کا
    شاعر کو دیا جائے
    اور روک لیا جاۓ
    جب شعر اترنے سے
    بادل سے ذرا اوپر
    تاروں سے ذرا نیچے

    کیا خاک لکھے کوئ
    جب خاک کے میداں پر
    انگلی کو ہلانے سے
    طوفان نہیں اٹھتا
    جب شاخ پہ امکاں کی
    اس دشت تمنا میں
    اک پھول نہیں کھلتا

    رہوار نہیں رکتے
    موہوم سی منزل پر
    آنکھوں کے اشارے سے
    اور نور کی بوندوں کی
    بوچھاڑ نہیں ہوتی
    اک نیلے ستارے سے

    جب دل کے بلاوے پر
    اس جھیل کنارے پر
    پیغام نہیں آتا
    اک دور کا باشندہ
    اک خواب کا شہزادہ
    گلفام، نہیں آتا

    بستی میں کوئ عورت
    راتوں کو نہیں سوتی
    جاگی ہوئ عورت کی
    سو‏ئ ہوئ قسمت پر
    جب کوئ بھی دیوانہ
    بے چین نہیں ہوتا
    دہلیز کے پتھر سے
    ٹکرا کے جبیں اپنی
    اک شخص نہیں روتا

    جب نیند کے شیدائ
    خوابوں کو ترستے ہیں
    اور دیکھنے کے عادی
    بینائ سے ڈرتے ہیں
    رہ رہ کے اندھیرے سے
    آنکھوں میں اترتے ہیں

    آنکھوں کے اجالوں سے
    ان پھول سے بچوں سے
    کہہ دو کہ نہ اب ننگے
    پاؤں سے چلیں گھر میں
    اس فرش پہ مٹی کے
    اب گھاس نہیں اگتی
    اب سانپ نکلتے ہیں
    دیوار سے اور در سے

    اب نور کی بوندوں سے
    مہکی ہوئ مٹی میں
    انمول اجالے کے
    وہ پھول نہیں کھلتے
    اب جھیل کنارے پر
    بچھڑے بھی نہیں ملتے
    بستی میں کوئ عورت
    راتوں کو نہیں سوتی
    اور جاگنے والوں سے
    اب نظم نہیں ہوتی

    کیا نظم لکھے کوئ
    جب جاگنے سونے میں
    پا لینے میں،کھونے میں
    جب بات کے ہونے میں
    اور بات نہ ہونے میں
    کچھ فرق نہ رہ جاۓ
    کیا بات کرے کوئ

    ***
    ***

  3. آنکھیں جو کھلیں تو

    اب یاد نہیں کہ شہر جاں میں
    وہ کیسی عجب ہوا چلی تھی
    جو مجھ کو مری ہی زندگی سے
    اس سمت اڑا کے لے گئ تھی
    پاؤں کے تلے تھی دھند گویا
    اور سر پہ سنہری چاندنی تھی
    آنکھوں میں عجیب سی تھی ٹھنڈک
    چہرے پہ گل آب کی نمی تھی
    کچھ دور ستار بج رہا تھا
    یا وجد میں کوئ بانسری تھی

    آہستہ سے میرا نام لے کر
    اک شخص نے کوئ بات کی تھی
    آنکھیں جو کھلیں تو میں نے دیکھا
    میں کوچۂ عشق میں کھڑی تھی

    ***

    بارش میں پہاڑ کی ایک شام

    بہت تیز بارش ہے
    کھڑکی کے شیشوں سے بوچھاڑ ٹکرا رہی ہے
    اگر میز سے سب کتابیں ہٹا دوں تو چائے کے برتن رکھے جا سکیں گے

    یہ بارش بھی کیسی عجب چیز ہے
    یوں بیک وقت دل میں خوشی اور اداسی کسی اور شے سے کہاں
    تم جو آؤ تو کھڑکی سے بارش کو اک ساتھ دیکھیں
    ابھی تم جو آؤ تو میں تم سے پوچھوں کہ دل میں خوشی اور اداسی
    مگر جانتی ہوں کہ تم کیا کہو گے:
    مری جان
    اک چیز ہے تیز بارش سے بھی تند
    جس سے بیک وقت ملتی ہے دل کو خوشی اور اداسی
    محبت

    مگر تم کہاں ہو؟
    یہاں سے وہاں رابطے کا کوئ بھی وسیلہ نہیں ہے
    بہت تیز بارش ہے اور شام گہری ہوئ جا رہی ہے
    نجانے تم آؤ نہ آؤ
    میں اب شمع دانوں میں شمعیں جلا دوں
    کہ آنکھیں بجھا دوں؟

    ***

    کیا مرے خواب مرے ساتھ ہی مر جائیں گے

    ساز خاموش کو چھوتی ہے ـــــــ ذرا آہستہ
    ایک امید ـــــ کسی زخمہء جاں کی صورت
    لب پر آتے ہیں دل و ذہن سے الجھے یہ سوال
    کسی اندیشے کے مانند ــــ گماں کی صورت

    ذہن کے گوشہء کم فہم میں سویا ہوا علم
    جاگتی آنکھ کی پتلی پہ ــــــ نہیں اترے گا
    ڈوب جائے گا اندھیرے میں وہ نادیدہ خیال
    جو چمکتاـــــــ تو کسی دل میں اجالا کرتا

    جسم پر نشّے کے مانند ـــــــــ تصوّر کوئی،
    دل میں تصویر مجسّم کی طرح کوئی وصال
    دفن ہو جائے گا اک ٹھہرے ہوئے پانی میں
    میری آنکھوں کی طرح عشق کا یہ ماہ جمال

    ایک ہی پل میں بکھر جائے گا شیرازہء جاں
    ایک ھی آن میں کھو جائے گی لے ہستی کی
    عمر پر پھیلی ــــــ بھلے وقت کی امید جو ہے
    ایک جھٹکے سے یہ دھاگے کی طرح ٹوٹے گی

    کیا بکھر جائیں گے ـــــ نظمائے ہوئے یہ کاغذ
    یا کسی دست ملائم سے ـــــــ سنور جائیں گے
    کیا ٹھہر جائیں گے اس لوح پہ سب حرف مرے
    یا مرے ساتھ ــــــــ زمانے سے گزر جائیں گے

    میری آواز کی لہروں سے، یہ بنتے ہوئے نقش
    کیا ہوا کی کسی جنبش سے، بکھر جائیں گے
    زندہ رہ جائیں گے ـــــــــ تعبیر محبت بن کر
    یا مرے خواب، مرے ساتھ ہی مر جائیں گے؟

    ***

    زندگی کی ہنسی نے

    زندگی کی ہنسی نے، مجھے ایک لمحے کو روکا،
    مگر غم کا صحرا بہت دور تک
    وقت کی آخری حد تلک پھیلتا تھا
    کڑی دھوپ کی بیکراں وسعتوں میں
    دریدہ،تپیدہ بدن- دشت کے راستوں میں
    نمی کے لیے
    راحت حسرت دائمی کے لیے
    آنسوؤں کی ضرورت تھی
    لیکن مئجھے زندگی کی ہنسی نے کہیں ایک لمحے کو روکا،
    وہی ایک لمحہ – کہ جس میں ارادے بدلتے ہین
    اور زندگانی کے رستے بدلتے ہیں
    لمحہ- کہ جب رفتگاں کے بنائے ہوئے
    سارے نقشے بدلتے ہیں
    آئندگاں کے ستارے بدلتے ہین

    ***

    میں تمہارے فسانے میں داخل ہوئی

    شام کی ملگجی روشنی
    راستوں کے کناروں پہ پھیلی ہوئی تھی
    فضا، زندگی کی اُداسی سے لبریز اور زرد تھی
    دُور تک ایک نیلے تسلسل میں بہتی ہوئی نم ہَوا
    سرد تھی
    آسماں نے زمیں کی طرف سر جُھکایا نہیں تھا
    ابھی اختِرشام نے اپنا چہرہ دِکھایا نہیں تھا

    کہ جب میں نے بیکار دنیا کے ہنگام سے اپنا دامن چُھڑایا
    دلِ مضطرب کو دِلاسا دیا
    آگے جانے کی جلدی میں
    جنگل پہاڑ اور دریا
    کسی کو پلٹ کر نہ دیکھا
    کہیں وقت کی ابتدائی حدوں پر کھڑے
    اپنے پتھریلے ماضی کی جانب
    بس اک الوداعی اشارہ کیا
    خواب کا ہاتھ تھاما
    نئے عزم سے سر کو اُونچا کیا
    اور تمہارے فسانے میں داخل ہوئی

    شام کی ملگجی روشنی راستوں کے کناروں پہ
    اُس پَل تھمی رہ گئی
    زندگی کی اُداسی سے لبریز ساری فضا
    دم بخود
    اور ہَوا اپنے پاؤں پہ جیسے جمی رہ گئی

    ***
    ***

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: