Tum Bin

جدائی کی کسک لیئے
تیری یاد کا آنسو
ھر شب کی آنکھ سے ٹپکا ھے
گزرے کل کی طرح
آج کا دن بھی
تم بن
اداس گزرا ھے۔۔۔۔!!!

~ از abbascom پر اکتوبر 25, 2008.

2 Responses to “Tum Bin”

  1. A wonderful poem by Samina Raja

    کیا مرے خواب مرے ساتھ ہی مر جائیں گے

    ساز خاموش کو چھوتی ہے ـــــــ ذرا آہستہ
    ایک امید ـــــ کسی زخمہء جاں کی صورت
    لب پر آتے ہیں دل و ذہن سے الجھے یہ سوال
    کسی اندیشے کے مانند ــــ گماں کی صورت

    ذہن کے گوشہء کم فہم میں سویا ہوا علم
    جاگتی آنکھ کی پتلی پہ ــــــ نہیں اترے گا
    ڈوب جائے گا اندھیرے میں وہ نادیدہ خیال
    جو چمکتاـــــــ تو کسی دل میں اجالا کرتا

    جسم پر نشّے کے مانند ـــــــــ تصوّر کوئی،
    دل میں تصویر مجسّم کی طرح کوئی وصال
    دفن ہو جائے گا اک ٹھہرے ہوئے پانی میں
    میری آنکھوں کی طرح عشق کا یہ ماہ جمال

    ایک ہی پل میں بکھر جائے گا شیرازہء جاں
    ایک ھی آن میں کھو جائے گی لے ہستی کی
    عمر پر پھیلی ــــــ بھلے وقت کی امید جو ہے
    ایک جھٹکے سے یہ دھاگے کی طرح ٹوٹے گی

    کیا بکھر جائیں گے ـــــ نظمائے ہوئے یہ کاغذ
    یا کسی دست ملائم سے ـــــــ سنور جائیں گے
    کیا ٹھہر جائیں گے اس لوح پہ سب حرف مرے
    یا مرے ساتھ ــــــــ زمانے سے گزر جائیں گے

    میری آواز کی لہروں سے، یہ بنتے ہوئے نقش
    کیا ہوا کی کسی جنبش سے، بکھر جائیں گے
    زندہ رہ جائیں گے ـــــــــ تعبیر محبت بن کر
    یا مرے خواب، مرے ساتھ ہی مر جائیں گے؟

    ~*~

  2. niceeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeee
    i love the poetry in urdu writing not in english bcz it’s easy to read.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: