Kuch Din

کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ھو جاو تو کیا

کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاو تو کیا

جب ھم ھی نہ مہکے پھر صاحب
تم باد صبا کہلاو تو کیا

اک آئینہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر شرماو تو کیا


تم آس بندھانے والے تھے
اب تم بھی ہمیں ٹھکراٰو تو کیا

دنیا بھی وہی تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاٰو تو کیا

میں تنہا تھا میں تنہا ھوں
تم آٰو تو کیا نا آٰو تو کیا

جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاٰو تو کیا گہناٰو تو کیا

اک وہم ھے یہ دنیا اس میں
کچھ کھوٰو تو کیا کچھ پاٰو تو کیا

ھے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاٰو تو کیا مر جاٰو تو کیا

~ از abbascom پر جولائی 25, 2008.

One Response to “Kuch Din”

  1. A wonderful ghazal by Samina Raja

    غزل

    ہوائے یاد نے اتنے ستم کیے اس شب
    ہم ایسے ہجر کے عادی بھی رو دیے اس شب

    فلک سے بوندیں ستاروں کی طرح گرتی ہوئی
    بہک رہی تھی وہ شب جیسے بے پیے اس شب

    بھڑکتے جاتے تھے منظر بناتے جاتے تھے
    ہوا کے سامنے رکھے ہوئے دیے اس شب

    عجب تھے ہم بھی کہ دیوار نا امیدی میں
    دریچہ کھول دیا تھا ترے لیے اس شب

    چراح بام نہ تھے، شمع انتظار نہ تھے
    مگر وہ دل کہ مسلسل جلا کیے اس شب

    وہ چاک چاک تمنا،وہ زخم زخم بدن
    تری نگاہ دلآرام نے سیے اس شب

    خبر ہوئی کہ جلاتا ہے کس طرح پانی
    وہ اشک شعلوں کے مانند ہی پیے اس شب

    وہ شب کہ جس کے تصور سے جان جاتی تھی
    نجانے صبح تلک کس طرح جیے اس شب

    ~*~

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: