Dil main Thkana

درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا
زندگی بھر کا تماشا ہو گیا

مبتلائے ھم بھی ہو گئے
ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا

بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے
غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا

ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی
ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا

تھے نیاز و ناز کیا کیا خواب میں
کھل گئیں آنکھیں تو پردہ ھو گیا

تیرے جلوؤں کا عالم کیا کہوں
اک عالم اور پیدا ہو گیا

اپنی رسوائی سے ھے بڑھ کر یہ غم
ساتھ میرے تو بھی رسوا ہو گیا

درد دل میں کروٹیں لینے لگا
کس کی آنکھ کا اشارا ہو گیا

ذکر مے آیا گلشن جو گلشن میں جلیل
پھول سا غر سرو مینا ہو گیا

~ by abbascom on October 19, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 43 other followers