Ziker-e-Shab-e-Firaq Se Wahshat Use bhi Thi
ذکر شبّ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
سناتا تھا برے شوق سے وہ بھی پرانی کہانیاں
شائد رفاقت کی ظرورت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نیئے چھروں کی دید کا
رستہ بدل کر چلنے کی عادت اسے بھی تھی
کل رات دیر تک رھا وہ ماھو گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
مجھ سے بچھڑ کے شہر سے گل مل گیا وہ شحص
ورنہ تو شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی
وہ مجھ سے بھر کے ظبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر اک سانس قیامت اسے بھی تھی



Can you tell me …, please
Write down the address, please.
—————————————
Hi, Interesting, I`ll quote it on my site later.
Have a nice day
Elcoj