کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں
کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا
کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا
جب ھم ھی نہ مہکے پھر صاحب
تم باد صبا کہلاؤ تو کیا
اک آئنہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر شرماؤ تو کیا
تم آس بندھانے والے تھے
اب تم بھی ہمیں ٹکھراؤ تو کیا
دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤں تو کیا
میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا
جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا
اک وہم ھے یہ دنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا کچھ پاؤ تو کیا
ھے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا



very nice poetry