Dukh Fasana Nahi Ke Tujh Se kahien
دکھ فسانہ نہیں کے تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کے تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کے تجھ سے کہیں
ایک تو خرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کے تجھ سے کہیں
اے خدا درددل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں کے تجھ سے کہیں



Good one