کاش میں تیرے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا
کاش میں تیرے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمھوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ھاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ھونتوں کی حدت سے دہک سا جاتا
رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ھاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی
میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا
جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا
مجھ کو بےتاب سا رکھتا تیری چاھت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں ترے حسیں ھاتھ کا کنگن ھوتا



its very cheap poetry by some shah named person origionally it is by Majeed amjad