Posted in Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation
Tags: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, JASOOSI KAHANIAN, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, romantic poetry, ROMANTIC URDU NOVELS, Social Novel, URDU AFSANAY, Urdu Books, Urdu Hadidh, urdu kahani, urdu kahanian, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Novel, Urdu novels, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, URDU STORIES, Urdu Time, Urdu writers, Wasi Shah, Wasi Shah Poetry
Kuch na kisi se bolien gay
•January 15, 2012 • 1 Commentکچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہبروں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
Kabhi badnaam na ho gay
•January 10, 2012 • Leave a Commentملن کی آرزو کرنا سفر کی جستجو کرنا
جو تم مایوس ھو جاو تو مجھ سے گفتگو کرنا
یہ اکژ ھو بھی جاتا ھے ، کہ کوئی کھو بھی جاتا ھے
مقدر کو ستاٰو گے
تو پھر یہ سو بھی جاتا ھے
اگر تم حوصلہ رکھو وفا کا سلسلہ رکھو
جو تم سے پیار کر بیٹھے تو اس سے رابطہ رکھو
میں یہ دعوے سے کھتا ھوں
کبھی ناکام نہ ھو گے
محبت کو سمجھہ جاو
کبھی بدنام نہ ھو گے
Aeitbar Tootay to
•December 2, 2011 • Leave a Commentاعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!
درد کی رت کا دل میں ڈیڑا ھو ہی جاتا ھے
پلکوں پر اشکوں کا پہرا ھو ھی جاتا ھے
اجلے دن میں سانولا اندیھرا ھو ھی جاتا ھے
اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!!
ویرانی دیوار جان میں بسنے لگتی ھے
چلتے چلتے دل کی دھڑکن رکنے لگتی ھے
حسرتوں کی چتا میں زندگی جلنے لگتی ھے
اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!
دل کی بنیادوں میں دیمک سی لگ جاتی ھے
تنہائی سے مل کے گلے خوشی رونے لگتی ھے
آنکھ پانی برسا کے خون دل دھونے لگ جاتی ھے
اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!
پیچھے چھوڑ کے ہم کو ساتھی من کا آگے بڑھ جاتا ھے
ساتھ چلتے چلتے کو ئی اپنا پل میں بچھڑ جاتا ھے
اک پل میں ھی شاذ ۃ آباد نگر دل کا اجڑ جاتا ھے
Dil main Thkana
•October 19, 2011 • Leave a Commentدرد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا
زندگی بھر کا تماشا ہو گیا
مبتلائے ھم بھی ہو گئے
ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا
بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے
غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا
ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی
ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا
تھے نیاز و ناز کیا کیا خواب میں
کھل گئیں آنکھیں تو پردہ ھو گیا
تیرے جلوؤں کا عالم کیا کہوں
اک عالم اور پیدا ہو گیا
اپنی رسوائی سے ھے بڑھ کر یہ غم
ساتھ میرے تو بھی رسوا ہو گیا
درد دل میں کروٹیں لینے لگا
کس کی آنکھ کا اشارا ہو گیا
ذکر مے آیا گلشن جو گلشن میں جلیل
پھول سا غر سرو مینا ہو گیا



Recent Comments