Rasta kat Bhi Gaya–Sad Poetry

•January 27, 2012 • Leave a Comment

Rasta kat Bhi Gay–Sad Poetry

Kuch na kisi se bolien gay

•January 15, 2012 • 1 Comment

کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے

ہم بے راہبروں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے

خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے

جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے

نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے

Kabhi badnaam na ho gay

•January 10, 2012 • Leave a Comment

ملن کی آرزو کرنا سفر کی جستجو کرنا
جو تم مایوس ھو جاو تو مجھ سے گفتگو کرنا
یہ اکژ ھو بھی جاتا ھے ، کہ کوئی کھو بھی جاتا ھے
مقدر کو ستاٰو گے
تو پھر یہ سو بھی جاتا ھے
اگر تم حوصلہ رکھو وفا کا سلسلہ رکھو
جو تم سے پیار کر بیٹھے تو اس سے رابطہ رکھو
میں یہ دعوے سے کھتا ھوں
کبھی ناکام نہ ھو گے
محبت کو سمجھہ جاو
کبھی بدنام نہ ھو گے

Aeitbar Tootay to

•December 2, 2011 • Leave a Comment

اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!
درد کی رت کا دل میں ڈیڑا ھو ہی جاتا ھے
پلکوں پر اشکوں کا پہرا ھو ھی جاتا ھے
اجلے دن میں سانولا اندیھرا ھو ھی جاتا ھے
اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!!
ویرانی دیوار جان میں بسنے لگتی ھے
چلتے چلتے دل کی دھڑکن رکنے لگتی ھے
حسرتوں کی چتا میں زندگی جلنے لگتی ھے
اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!
دل کی بنیادوں میں دیمک سی لگ جاتی ھے
تنہائی سے مل کے گلے خوشی رونے لگتی ھے
آنکھ پانی برسا کے خون دل دھونے لگ جاتی ھے
اعتبار ٹوٹے تو۔۔۔!!!
پیچھے چھوڑ کے ہم کو ساتھی من کا آگے بڑھ  جاتا ھے
ساتھ چلتے چلتے کو ئی اپنا پل میں بچھڑ جاتا ھے
اک پل میں ھی شاذ ۃ آباد نگر دل کا اجڑ جاتا ھے

Dil main Thkana

•October 19, 2011 • Leave a Comment

درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا
زندگی بھر کا تماشا ہو گیا

مبتلائے ھم بھی ہو گئے
ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا

بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے
غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا

ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی
ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا

تھے نیاز و ناز کیا کیا خواب میں
کھل گئیں آنکھیں تو پردہ ھو گیا

تیرے جلوؤں کا عالم کیا کہوں
اک عالم اور پیدا ہو گیا

اپنی رسوائی سے ھے بڑھ کر یہ غم
ساتھ میرے تو بھی رسوا ہو گیا

درد دل میں کروٹیں لینے لگا
کس کی آنکھ کا اشارا ہو گیا

ذکر مے آیا گلشن جو گلشن میں جلیل
پھول سا غر سرو مینا ہو گیا

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 30 other followers